کاروار:2/اگست (ایس اؤنیوز) پچھلے 2مہینوں سے سمندر میں مشینی بوٹ مچھلی شکار پرعائد پابندی ختم ہونے کے بعد سمندر میں مچھلی شکار کے لئے اترے ماہی گیروں کو امید کے مطابق مچھلی نہیں ملنے سے پہلے دن ہی کافی مایوس نظر آرہے تھے۔
شہر کے بیت کھول بندرگاہ پر سیکڑوں بوٹ صبح سے ہی قطار در قطار مچھلی شکار کے لئے سمندر میں لوٹے تھے، ان میں سے کچھ ٹرالرس بوٹوں کو جھینگے ملے تو فرشین بوٹ خالی ہاتھ لوٹے ۔
عام طورپر پابندی کے بعد مچھلی شکار کو لوٹنے والوں کو ابتدائی طورپر گانگڑے ، پاپلیٹ سمیت کئی قسم کے مچھلیاں جال میں آجاتی تھیں، لیکن امسال پہلے دن ہی کئی ماہی گیر خالی ہاتھ لوٹنے پر غور کریں تو آئندہ دنوں میں مچھلی شکار کے لئے مشکلات کا سامنا ہونے کی بات ماہی گیر ونایک ہری کنتر نے بتائی ۔ شکار دوران ملے جھینگوں کو کیرلا، کوچی ، گوا کو سپلائی کیاجاتاہے، لیکن ابھی تک اس کی کوئی قیمت طئے نہیں کی گئی ہے۔ کچھ ماہی گیر 100روپئے فی کلوگرام فروخت کررہے ہیں یہ رقم بوٹ کے ڈیزل اور مزدوروں کی تنخواہ کے لئے بھی کافی نہیں ہوتی ہے، اگر حالات یوں ہی جاری رہے تو ماہی گیروں کی زندگی دوبھر ہوجانےکا خیال ظاہر کیا۔